میری سٹوڈنٹ دلہن
Episode last
ہیں میں جب بھی انسے شکوہ کرتی ہوں کہ آپ مجھے وقت نہیں دیتے تو کہتے ہیں کہ بس کچھ دن کی بات ہے ابھی نیا نیا آفس جوائین کیا ہے میں نے کام کو سمجھ لوں پھر سب نارمل ہو جائے گا انھیں یہ بات کہتے کہتے دو مہنے تو ہو گئے ہیں پتہ نہیں کب ہوگا سب نارمل یہ کہتے ہوئے اس کی آنکھوں میں عجیب اداسی عجیب پیاس سی محسوس کی میں نے میرا دل کررہا تھا کہ ابھی اٹھکر اسے اپنے گلے لگالوں میں اور اس کی ساری پیاس مٹادوں لیکن میں مجبور تھا بہت پھر اس نے مجھ سے پوچھا کہ شاھدمیں دو دن سے کیوں ڈسٹرب اور اداس ہوں کیسی لڑکی کا چکر تو نہیں ہے میں اس کی یہ بات سن کر بہت زور سے ہنسا اور کہا کہ میں ان چکروں میں نہیں پڑتا ہوں اسنے کہا کہ کیا مطلب آپ تو بہت اسمارٹ ہیں آپ کی تو بہت ساری لڑکیوں سے دوستی ہوگی میں نے کہا کہ نہیں ایسا کچھ نہیں ہے میں لڑکیوں سے دوستی کی ٹینشن نہیں پالتا اس نے کہا کہ کیسی ٹینشن میں نے کہا کے دوست تو دوست ہی ہے پھر لڑکا یا لڑکی کا فرق نہیں ہوتا ہے میں اپنے کیسی لڑکے دوست کو گلے لگا سکتا ہوں اس کہ جسم کہ کیسی بھی حصے کو چھو سکتا ہوں تو لڑکی بھی میری دوست ہی ہوگی نہ لیکن اسکو ہاتھ لگایا تو وہ سو باتیں سنادے گی اور نہیں بھی سنائیں تب بھی ہمیں کچھ کچھ ہوگا اور پھر بہت کچھ ہوگا اور سارا قصور میرا ہوگا پھر اسنے تو انجوئے کیا ہی نہیں ہوگا اور اگر میری کوئی لڑکی دوست ہو اور میرے دل اسے ملنے کا کررہا ہو تو سو جھنجھٹ ہونگے اس کا ملنے آنا مثلا پھر اسکے ساتھ گھومنا مثلا کے کوئی دیکھ نہ لے پھر کسی ایسی اسٹینڈرڈ کی جگہ کا ہونا جہاں ہم بیٹھ کر بات کر سکیں اب پٹھان کہ ہوٹل پر تو میں اسے لے کر بیٹھ نہیں سکتا اور سب سے بڑی بات کہ لڑکا اور لڑکی میں ایک دوسرے کیلئے فیزکلئی اٹریکشن موجود ہوتا ہے وہ نہ چاہتے ہوئے بھی ایک دوسرے میں انٹرسٹ لینے لگتے ہیں اوربہت قریب آجاتے ہیں پھر بات پیار محبت تک جاتی ہے اور لاسٹ میں وہ ہی گلے شکوے اور سارا الزام لڑکے پر آتا ہے کہ شاید ہر بات کا وہی قصوروار ہے لڑکی کی تو مرضی نہیں تھی تو اس سب سے بہتر ہے کہ آپ لڑکیوں سے ودر ہی رہیں تو اچھا ہے مبینہ میری باتیں بہت غور سے سنتی رہی اور بولی کہ
شاھد آپ پھر کیسی شادی شدہ لڑکی سے دوستی کرلیں تاکہ یہ سب پرابلم نہ ہوں تو میں نے کہا کہ بھلا کوئی شادی شدہ لڑکی کیوں دوستی کریگی مجھ سے اسکے پاس تو سب ہوتا ہے اسے کیسی اور کی ضرورت کیوں ہوگی یہ تمام باتیں جان بوجھ کر کہارہا تھا میں مبینہ سے لیکن اسنے میری باتوں کا کوئی جواب نہیں دیا اور خاموش ہوگئی میں نے ٹائم دیکھا تو چار بجنے والے تھے میں نے اس سے اجازت لی لائٹ ابھی تک نہیں آئی تھی میں واپس اپنے انسٹیٹیوٹ آگیا اور سوچنے لگا کہ مبینہ بھی پیاسی ہے بہت اور وہ بھی چاہتی ہے کہ ہم قریب آجائیں لیکن پہل کون کرے اور کس طرح میں نے دل میں پکا ارادہ کرلیا تھا کہ پیر کو میں مبینہ کو کہوں گا کہ آپ بھی تو شادی شدہ ہیں کیا آپ دوستی کریں گی مجھ سے کیوں کہ نیکسٹ ڈے ہفتہ تھا اور یہ بات پیر کو ہی ہو سکتی تھی اسی دن میں رات لیٹا مبینہ کہ بارے میں ہی سوچ رہا تھا نیند آنکھوں سے کوسو دور تھی میرے کہ اچانک میرے موبائیل کی میسج ٹون بجی میں نے موبائل اٹھا کر دیکھا تو یہ دیکھ کر بہت حیران ہوا کہ وہ میسج مبینہ کا ہی فارورڈ میسج تھا کوئی دکھ بھرا شیر فارورڈ کیا تھا اسنے یہ پہلی بار تھا کہ اسنے مجھکو کوئی فارورڈ میسج سینڈ کیا تھا ٹائم دیکھا تو رات کہ سوا دو بج رہے تھے میں نے فوراً ریپلائے کیا اسے کے خیریت آپ ابھی تک جاگ رہیں ہیں تواسکا میسج آیا کہ آپ بھی تو جاگ رہیں ہیں شاھد
میں نے کہا کہ اپنا کیا ہے جی ہمارا جاگنا اور سونا تو برابر ہے لیکن آپ کے تو شوہر آپ کہ پاس ہی ہونگے اس وقت اگر آپ جاگ بھی رہیں ہیں تو ان کہ ساتھ مصروف ہونگی تو آپ کو میری یاد کیسے آگئی اس وقت وہ بھی اتنے دکھ بھرے شیر کہ ساتھ تو وہ کہنے لگی کہ جی ساتھ ہیں اور سورہیں ہیں بے خبر انکا ہونا نہ ہونہ بھی برابر ہی ہے میرے لئے پھر اسکا میسج آیا کہ
شاھدآپ سے ایک بات کہنی ہے میں نے کہا کہ جی ضرور حکم کریں آپ اسنے کہا کہ کیا آپ مجھے اپنی دوستی کہ قابل سمجھتے ہیں کیا میں آپ کی دوست بن سکتی ہوں میں کوشش کرونگی کہ آپ کو کوئی تکلیف نہ ہو میری ذات سے یہ میسج پڑھ کر تو میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا مجھے تو یقین نہیں ہورہا تھا کہ جو میں نے سوچا تھا خود بہ خود ہوجائے گا بنا کیسی محنت کہ میں نے اسے فوراً ریپلائے کیا کہ اگر آپ نے مجھے دوستی کہ قابل سمجھا ہے تو یہ تو میری خوش نصیبی ہے ورنہ میں خود کو اس قابل نہیں سمجھتا تھا دوستی تو میں بھی کارنہ چاہتا تھا آپ سے مگر ڈر بھی تھا کہ کہیں آپ کو میری بات بری نہ لگ جائے اور آپ کو دیکھنے سے بھی محروم نہ ہونا پڑے مجھے اور یہ ہی وجہ تھی کہ میں دو دن سے پریشان تھا بہت کیوں کہ دو دن سے آپ میرے حواسوں پر چھائی ہوئی ہیں بہت مشکل سے خود کو آپ سے دور رکھ سکا ہوں پرسوں بھی یوں ہی سر درد کا کہا کر اٹھ گیا تھا آپ کہ پاس سے کہ میں خود کو کنٹرول نہیں کر پارہا تھا تو وہاں سے جانا ہی بہتر سمجھا میں نے اور ابھی آپ میسج کر کہ یہ بات نہیں کہتیں تومیں خود پیر کو آپ سے بات کرنے کا فیصلہ کر چکا تھا پھر اسنے پوچھا کہ میں کیا آج آسکتا ہوں اسے ملنے میں نے کہا کہ ہاں ضرور کیوں کہ مجھے سے بھی دور نہیں رہا جارہا ہے دل کررہا ہے کہ ابھی اور اسی وقت آجاؤں میں تمھارے پاس اس نے کہا کہ میں پھر کل جلدی آجاؤں صبح نو بجے تک میں نے کہا کہ ٹھیک ہے اسنے پوچھا کہ
شاھدمیں صبح کیا پہنوں میں نے کہا کہ تم کیا پہننا چاہتی ہو اس نے کہا کہ جو میں کہوں گا وہ پہنوں گی کیوں کہ میں صبح اپنے ٹیچر سے نہیں دوست سے ملوں گی تو چاہتی ہوں کہ ہر کام اس کی مرضی اور پسند کہ مطابق ہو میں نے کہا کہ پھر تم کوئی سیکسی سی نائیٹی پہننا اور یوں باتوں باتوں میں ٹائم کا پتہ بھی نہیں چلا اور صبح کہ سات بج گئے اسنے کہا کہ میرے شوہر کے جاگنے کا وقت ہوگیا ہے وہ اسے آفس بھج کر بات کریگی میں نے کہا ٹھیک ہے اور میں بھی واشروم چلا گیا نہانے اور شیو کرنے کیلئے اس میں تقریباً ایک گھنٹا لگا مجھے اور میں تیار ہوگیااتنی دیر میں امی بھی اٹھ گئیں انھونے پوچھا کہ آج کہاں کی تیاری ہے آج تو چھٹی ہوتی ہے تمھاری تو میں نے کہا کہ آج اسکول کی طرف سے پکنک ہے شام تک واپس
آؤں گا پھر میں مبینہ کی کال کا انتظار کرنے لگا اور امی ناشتہ بنانے چلی گئیں کافی دیر تک مبینہ کی کال نہیں آئی تو میرا موڈ خراب ہونے لگا امی ناشتہ لے کر آگئیں میں نے بے دلی سے ناشتہ کرا اور گھر سے بھار نکل گیا بائیک لی اور مبینہ کہ گھر چلددیا راستہ بھی کافی لمبا تھا یوں میں راستے میں ہی تھا کہ میرا سیل بجنا شروع ہوگیا دیکھا تو مبینہ کی ہی کال تھی میں نے ریسیو کی اور کہا کہ کب سے انتظار کررہا ہوں یار کہاں تھیں تم تو اس نے کہا کہ ابھی میرے شوہر گئے ہیں انکے جانے کا ویٹ کررہی تھی پھر اسنے پوچھا کہ میں کب تک آرہا ہو تو میں نے کہا کہ راستے میں ہوں پندرہ منٹ میں پونچ جاؤں گا اسنے اوکے کہا اور کال کاٹ دی میں میں بھی موبائیل پوپس جیب میں ڈالا اور بائیک کی اسپیڈ بڑھادی کچھ ہی دیر میں مبینہ کہ گھر کہ بہار کھڑا تھا میں نے بیل بجائی تو فوراً ہی دروازہ کھل گیا مبینہ نے سلام کیا اور مسکراکر کہا کہ میں بائیک بھی اندر ہی لیکے آجاؤں میں نے بائیک بھی اندر کھڑی کردی اسنے گیٹ کی کنڈی لگائی اور مسکراتے ہوئے کہا کہ اندر چلیں شاھد
میں ابھی آئی بس میں بھی مسکراتا ہوا ڈرائنگروم کی جانب چل پڑا تو اس نے اچانک میرا ہاتھ پکڑلیا اور بہت پیار سے بیڈروم کی طرف اشارہ کر کے بولی کے ادھر نہیں اودھر جناب میں بھی ہنستا ہوا بیڈروم میں داخل ہو گیا اسنے کہا کے آپ بیٹھں میں آتی ہوں اور وہ روم سے بہار چلی گئی میری حالت اس وقت بہت عجیب ہو رہی تھی میں خوش بھی بہت تھا لیکن خوفزدہ بھی تھا پتہ نہیں کیوں لیکن بہت عجیب کیفیت تھی میری جو بیان نہیں کر سکتا میں چند منٹ بعد ہی مبینہ کمرے میں داخل ہوئی اس کے ہاتھ میں ناشتے کی ٹرے تھی وہ اسنے میری جانب بڑھادی میں نے کہا کے اسکی کوئی ضرورت نہیں ہے یار تم آکر بیٹھو میرے پاس اسنے کہا کہ آپ ناشتا کریں میں فریش ہو کے آتی ہوں پانچ منٹ میں اس وقت اسکا جانا بہت برا لگررہا تھا مجھے لیکن میں جیسٹ مسکرا سکا نہ تو میں اس وقت کچھ کہے سکتا تھا نہ ہی اپنا موڈ خراب کر سکتا تھا وہ روم میں ہی موجود ایٹیج باتھ میں چلی گئی اور میں جائے کا کپ اٹھ کر اس کہ انتظار میں بیٹھ گیا تقریباً دس منٹ گزر گئے یوں ہی بیٹھے بیٹھے میرا ایک ایک پل مشکل سے گزررہا تھا پھر اچانک واشروم کا گیٹ کھولا اور جو میں نے دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا میں سچ میں کچھ پل کیلئے پتھر کا ہوگیا تھا سامنے مبینہ کھڑی تھی بھیگی ہوئی اس کے بالوں سے پانی ٹپک رہا تھا اور اسنے لال کلر کی نائیٹی پہنی ہوئی تھی ہاں ہاں خالی نائیٹی جس میں سے اس کا پورا بدن صاف نظر آرہا تھا اس کہ جسم کا ایک ایک حصہ وازا تھا میری آنکھوں کے سامنے وہ بہار رنکلی اور کہنے لگی کہ ایسے کیا دیکھ رہیں ہیں ایسے نہیں دیکھیں مجھے شرم آرہی ہے میں پھر بھی ٹکٹکی بھاندہے اسے ہی دیکھے جاراہا تھا میں نے ایسا جسم اپنی پوری زنداگی میں کیسی بھی لڑکی کا نہیں دیکھا تھا اف کیا نظرہ تھا اسکے بھیگے ہوئے بالوں سے پانی کا ٹپکنا ایسا لگرہا تھا تھا جیسے شہید ٹپک رہا ہو اسکا بھرا ہوا جسم اسکی نائیٹی کہ اندر سے ایسے جھلک رہا تھا جیسے کیسی ہیرے سے روشنی پھوٹ رہی ہو اور میں اس روشنی میں نہارہا ہو اس کے بریسٹ ایسے گول تھے جیسے بال ہوتی ہے سائز کا تو مجھے اندازہ نہیں لیکن ایسا لگرہا تھا کہ درمیانے سائز کے خربوزے ہوں اور وہ بھی بنا برا کہ ہی اتنے ٹائیٹ ہو رہے تھے کہ اسکی نائیٹی کہ تانا ہوا تھا اور پھر اس پر اس کہ کھڑے ہوئے نپل میں سچ میں پتھر ہوگیا تھا اسے دیکھ کر وہ میرے پاس آئی اور میرا ہاتھ پکڑکر پوچھا کے کیا ہوا میں ٹھیک تو ہوں نہ تو ایسا لگا کہ جیسے اچانک میں ہوش میں آگیا ہوں میں نے چونک کر کہا نہیں کچھ نہیں ہوا ہے اور پھر اس کہ حسن میں مدہوش ہوگیا میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اپنی جانب کھینچ لیا اسے اور وہ کیسی کٹی پتنگ کی طرح میری جانب کھینچی چلی آئی میں نے اسے اپنی باہوں میں بھر کر گلے سے لگالیا اور کافی دیر یوں ہی کھڑا رہااس کے دونوں بریسٹ میرے سینے میں پیوست ہوگئے اور میرا لنڈ اسکی جوت میں رگڑے دے رہا تھا
اور ایسا لگرہا تھا کہ ابھی پینٹ کی زپ ٹوٹ جائے گی اور یہ خودی اپنا راستہ بنالیگا کیوں کے مبینہ نے فرنٹ اوپن نائیٹی پہنی ہوئی تھی باؤتھ گاؤن کی اسٹائیل کی وہ فرنٹ سے پوری اوپن تھی اور اس کہ دونوں سائیڈ کے کپڑے کو اوپر نیچے کر کے کمر پر ایک بیلٹ بندہی ہوئی تھی اور اس نے مزید نیچے کچھ نہیں پہنا تھااورنیچے سے اس کی نائیٹی آسانی سے ہٹ گئی تھی بنا بیلٹ کھولے میں اس وقت کتنے سرور میں تھا دل کررہا تھا کہ وقت یہاں پر ہی تھم جائے پھر میں نے اسے کہا کہ میں شاید ہوش میں نہیں ہوں اسنے پوچھا کہ کیوں کیا ہوا ہے میں نے کہا کہ تم جیسی خوبصورت لڑکی میں نے آج تک نہیں دیکھی ہے اور تم میری باہوں میں ہو گی یہ تو سوچا بھی نہیں تھا میں نے یوں بس یقین نہیں ہورہا ہے کے میں ہوش میں ہوں کہ خواب دیکھ رہا ہوں میری بات سن کر وہ تھوڑا شرماگئی اسکے بعد میں نے اسکو پیار کرنا شروع کردیا میں نے اپنے ہونٹ اس کہ ہونٹوں پر رکھ دئے اور انھیں چوسنا شروع ہوگیا کس کدر گرم اور خوشک ہونٹ تھے اسکے لیکن خوشک ہونے کے باواجود ان میں سے شہید جیسا رس نکل رہا تھا میرا ایک ہاتھ اسکی کمر پر اور دوسرا ہاتھ اس کی گردن پر تھا اور اسنے دونوں ہاتھ میرے ھپس پر رکھے ہوئے تھے اور میرے ھپس کو دبارہی تھی اپنی طرف اور اپنی چوت کو میرے لنڈ سے رگڑرہی تھی مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے کہ وہ لنڈ اندر لینے کہ لیئے بہت بیتاب ہو اس کی اور میری سانس بہت تیز تیز چل رہیں تھیں میں نے اپنا ہاتھ اسکی کمر پر سے ہٹا کر اس کہ بریسٹ پر رکھ دیا اور ہلکے ہلکے دبانا شروع کردیا اس کہ منہ سے سسکاریا نکلنا شروع ہوگئی اور وہ اور تیز تیز اپنی چوت میرے لنڈ پر رگڑنا شروع ہوگئی میں نے اسکے ہونٹون پر سے ہونٹ ہٹائے اور اسکی گردن پر رکھ کر کس کرنا شروع کردیااور دوسرا ہاتھ اسکے ھپ پر رکھ کر اسکو اپنی طرف دبانے لگا اور دوسرا ہاتھ اسکی نائیٹی میں ڈال کر اسکا بریسٹ پکڑلیا اور اسکا نپل مسلنے لگا اچانک وہ ہوا جس کی مجھے امید نہیں تھی مبینہ نے خود کو ایک جھٹکے سے مجھ سے الگ کیا اور چند سیکنڈ یونہی کھڑی رہی پھر اسنے میری ٹی شرٹ اوپر کی اور میری پینٹ کی بیلٹ کھولنا شروع کردی میں سمجھ گیا کہ مبینہ بہت پیاسی ہے شاید مجھ سے بھی زیادہ پیاسی میں نے بیلٹ کھلنے میں اس کی مدد کی اور خود ہی اپنے پینٹ اتاردی اب میں خالی انڈرویراور ٹی شرٹ میں تھا اور میرا لنڈ انڈر ویر پھاڑ رہا تھا پھر میں مبینہ کی کمر پر بندہی بیلٹ کا کونا کھینچا تو اس کی گررہ کھل گئی اور میں نے ایک جھٹکے سے اس کی نائیٹی اس کہ جسم سے الگ کردی اور اسکا پورا ننگا بدن میرے سامنے تھا اور میں ایک بار پھر ہوش کھو بیٹھا ایسا خوبصورت بدن اف ایسا لگراہا تھا کہ سنگ مرمر سے تراشہ گیا کوئی مجسمہ ہو یا پھر موم سے بنی کوئی گڑیا اس کہ جسم کہ کیسی حصے پر بال نام کی کوئی شہ نہیں تھی انتہائی چکنا بدن تھا اسکا پھر میں نے اپنی ٹی شرٹ اتاری اب خالی میرا انڈر ویر رہ گیا تھا ورنہ ہم دونوں بلکل ننگے تھے میں آگئے بڑھا اور مبینہ کو اپنی گود میں اٹھالیا اور اس کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دیئے اور یوں ہی کس کرتے کرتے اسے بیڈ پر لٹادیا اور دوبارہ پیار کرنہ شروع کردیا میں نے اس کو سیدھا لٹا کر اسکے پیٹ پراپنے ہونٹ رکھ دیئے اور اسکے بریسٹ دبانے لگا اور پیٹ پر زبان پھرتا پھرتا اسکے بریسٹ کی طرف آیا اور اسکے بریسٹ کو چوسنا شروع کر دیا وہ سرور اور مزے سے پاگل ہوگئی اور اسکے منہ سے مزے سے سسکاریا نکلنا شروع ہوگئی اسکی سسکاریاں مجھ پر قیامت بن کر گزررہی تھی اسکی آوازوں سے میں اور پاگل ہو رہا تھا پھر میں نے اسکے بریسٹ کو چھوڑ اور اسکے پاؤں کی طرف آیا اور اسکے پاؤں کے انگھوٹھے پر اپنے ہونٹ رکھے اور اسے چوسنے لگا پھر وہاں سے بنا ہونٹ ہٹائے اسے کہ جسم کہ اوپر بڑھنا شروع کردیا انگھوٹھے سے اوپر اسکے پنجوں پر پنڈلیوں پر پھر رانوں پر اور پھر سیدھا اسکی چوت پر اپنے ہونٹ
رکھ کر کس کرنا شروع کردیااس کہ منہ سے مسلسل سسکاریاں نکل رہی تھی لیکن میں نے جیسے ہی اسکی چوت پر اپنے ہونٹ رکھے اسکی برداشت سے بہار ہوگیا اور اسکے منہ سے عجیب غوں غوں کی آوازیں نکلنا شروع ہوگئی اور اسنے میرا سر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنی چوت پر دبانا شروع کردیا اور اپنی چوت اوپر نیچے کرنے لگی میں مسلسل اسکی چوت اپنی زبان سے چود رہا تھا کچھ ہی دیر میں اسکا جسم ایک دم اکڑا اور پھر ڈھیلا پر گیا اور اسکی سانسے تیز تیز چل رہی تھیں بس وہ فارغ ہوگئی تھی لیکن میرے لنڈ کا برا حال تھا وہ ابھی تک انڈرویر کا قیدی بنا ہوا تھا میں بھی اسکے اوپرسے اٹھ کر اس کہ برابر لیٹ گیااور اپنی ایک ٹانگ اسکی دونوں ٹانگوں کہ بیچ میں ڈالکر اس کہ بریسٹ دبانا شروع کردیئے ایک بار بھر سے اس کہ جلتے ہوئے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے اور اسے اپنے اوپر کھینچ لیا اب وہ مجھ پر الٹی لیٹی تھی اور میں اسکے نیچے تھا وہ میرے ہونٹ پاگلوں کی طرح چوسنے لگی پھر وہ میری گردن پر کس کرنے لگی اور یونہی کس کرتے کرتے میرے سینے اور پیٹ پر آگئی پھر اسنے میرا انڈر ویر نیچے کر کہ اتار کر بیڈ سے نیچے ڈالدیا اور میرا لنڈ آزاد ہوگیا جیسے ہی اسنے انڈروری نیچے کیا تھا تو لنڈ کیسی اسپرنگ کی طرح اچھل کر بہار آیا تھا اور ایسے کھڑا ہوگیا تھا جیسے پیٹاری کا ڈھکن کھلتے ہی سانپ کھڑا ہوجاتا ہے میرے لنڈ سے گرمی کہ بھپکے نکل رہے تھے ایسا لگرہا تھا کے جیسے آگ لگی ہو اسمیں میرا لنڈ پر جیسے ہی مبینہ کی نظر پڑی مبینہ کی انکھوں میں چمک آگئی اور اسنے آگے بڑھ کر میرا لنڈ اپنی موٹھی میں دبالیااور اسکی ٹوپی پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے اور میرے برا حال ہونے لگا شاید کچھ دیر میں چھوٹ جاتا میں کیوں کہ مجھے بھی خود برداشت کرتے کرتے کافی ٹائم ہوگیا تھا میں نے مبینہ کو کندھوں سے پکڑ کر اپنی جانب کھینچا اور اسے بیڈ پر لٹادیا اور میں اب اسکو چود کر اپنی اور اسکی پیاس بوجھانے کا فیصلہ کر چکا تھا مبینہ کو بیڈ پر لٹاتے ہی میں اس پر چڑھ گیا اور اسکے بریسٹ پکڑ کر اسکے ہونٹ پر اپنے ہونٹوں سے چومیاں لینے لگا اور نیچے میرا ننگا تنا ہوا لنڈ اسکی ننگی چوت کی چومیاں لے رہا تھا میں یوں ہی اسکا جسم چاٹتا چاٹتا نیچے بڑھا اور اسکے دودھ چوسنا شروع کردیئے اس کے منہ سے بھی سسکاریا نکلنا شروع ہوگئی اور وہ اپنی چوت اٹھا اٹھا کر میرے لنڈ پر مارنا اسٹارڈ ہوگئی
اسکی کلین شیو چوت جو کہ کنواری دلہن کی طر ح تھی مجھے پاگل کر رھی تھی بولی شاھد آ ج مجھے اپنے بچے کی ماں بنا دو میں کہا جو حکم آپکا تابعدار ھوں
میں سمجھ گیا کہ اب یہ چودنے کے لیئے تیار ہے میں نے اس کی ٹانگے کھولیں اور اپنا لنڈ اسکی چوت پر فیکس کیا اور ایک زوردار جھٹکا مارا اس کی چوت اسکے نکلنے والے رس سے پوری طرح گیلی ہورہی تھی میرے ایک ہی زوردار جھٹکے سے میرا آدھا لنڈ سلپ کرتا ہوا اسکی چوت میں چلا گیا اور وہ اتنے زور سے چیخی کہ میں خود ڈرگیا اور کہنے لگی شاھد آرام سے پلیز درد ہوراہا ہے بہت اسکی چوت بہت ٹائیٹ تھی اندازہ نہیں ہوراہا تھا کہ وہ شادی شدہ ہے میں کچھ دیر یونہی روکا رہا اور پھر اپنے لنڈ پر آھستا آھستا پریشر بڑھاتا گیا اور اسکے منہ سے ہلکی ہلکی درد بھری چیخیں نکلتی رہیں اور میرا پورا لنڈ اسکی چوت میں غائب ہوگیا میں اسے تکلیف دینا نہیں چاہتا تھا میں کچھ دیر یوہی اسکے اوپراسکی چوت میں اپنا لنڈ ڈالے لیٹا رہا اور اسکی ہونٹ چوسنے کہ ساتھ ساتھ اسکے دودھ دباتا رہا تھوڑی دیر بعد ہی اسنے اپنی چوت خودہی ہلانا شروع کردی سب پھر کیا تھا میں نے بھی جھٹکے دینا شروع کردیئے اور چندہی لمحوں بعد میں اپنی فل اسپیڈ پر تھا میں اپنا تقریباً پورا لنڈ بہار نکالتا بس میرا ٹوپا اسکی چوت میں رہ جاتا اور پھر پوری طاقت سے لنڈ اسکی چوت کہ اندر دھکیل دیتااسکی چوت بہت کرم اور ٹائیٹ تھی اور میرا لنڈ بھی اتنا گرم ہوراہا تھا کے جیسے اسمیں آگ لگی ہوہمیں تقریباً لگ بھگ سات یا آٹھ منٹ ہوگئے یونہی چودائی کرتے کرتے اسکی سسکاریوں اور چھپ چھپ کی آوازوں سے کمرا گونج رہا تھا اور پھر میں چھوٹنے کہ قریب آگیا اور میرے لنڈ نے لاوا نکلنا شروع کردیا اور مبینہ بھی میرے ساتھ ہی فارغ ہوگئی اور میں یوں ہی تھک کر اس
پر لیٹ گیا کچھ دیر خاموشی رہی اور جب ہمارے ہواس بھال ہوئے تو ہم ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرانے لگے میں نے پوچھا مزا آیا تمہیں تو مبینہ نے کہا کہ مزا ہی شاھد آج پہلی بار آیا ہے مجھے میں نے پوچھا کیا مطلب تو اسنے مسکراکر کہا کہ کچھ نہیں میں نے کہا کہ نہیں بتاؤ مجھے تو کہنے لگی کہ شاھدمیں نے بتایا تھا نہ کے میرے شوہر مجھ سے کافی بڑے ہیں ان کی ایج 38سال ہے اور میں 24سال کی ہو جو مجھے چاہیے تھا آ ج تم سے ملا ہے کیوں کی بڑھتی عمر کا اثر ہر چیز پر ہوتا ہے نہ انکے لنڈ کا سائیز تمھارے لنڈ کی طرح موٹا اور لمبا ہے اور نہ ہی ایسی سختی اور گرمی ہے جیسی آج مجھے ملی ہے انھونے تو پہلی رات بھی مہت مشکل سے ڈلا تھا اندر آج جب ہی مجھے بہت تکلیف بھی ہوئی ہے لیکن اسکا بھی اپنا مزا تھا میں خاموشی سے لیٹا لیٹا اسکی باتیں سنتا رہا اور دل کررہا تھا کہ اسکے شوہر کو تھینک یو بولوں کم از کم اسکا اتنا تو حق بنتا ہی ہے نہ کیوں کہ اسکی وجہ سے ہی آج اسکی بیگم کیسی پکے ہوئے آم کی طرح میرے لنڈ پر آن گری ہے ورنہ میں اتنا خوش نصیب کہاں تھا خیر یونہی باتیں کرتے کرتے تقریباً ایک گھنٹہ گزرگیا اور اب ہم دوبارہ تیار تھے انجوئے بھری چودائی کہ لئے اس دن میں شام پانچ بجے تک اسکی گھر ہی رہا اور ہم نے چار بار چودائی کی بہت مستی کی سارا دن ساتھ نہائے کھانا کھایا پھر میں گھر آکر سوگیا اور دوسرے دن ہی جاگا اسکے بعد روز مبینہ کو پڑھانے جاتا تو پہلے اسے خوب چودتا اور پھر پڑھاتا تقریباً ایک سال تک یہی چلتا رہا
1 سال کے بعد ایمان جعفری کے نارمل ڈلیوری سے خوبصورت بچہ ھوا جسکا نام سفیان رکھا جو میں نے تجویز کیا تھاپھر ایک دن میں نے اسماء کو بھی چودا جب ایمان حاملہ ھو گئ تھی
#After two years
پھر میں مصروف ھو گیا میری بھی شادی ھوگئ تو اب ھم بہت کم ھی ملتے ھیں ایمان دوسری بار امید سے ھے جب ڈلیوری ھو جاۓ گی تب دیکھا جاۓ گا
ختم شدﺍﯾﺴﯽ ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺟﻮ ﺧﻔﯿﮧ ﺗﻌﻠﻘﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺩﻟﭽﺴﭙﯽ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﯿﮟ
ﺍﭘﻨﮯ ﺟﺴﻢ ﮐﯽ ﺁﮒ ﮐﻮ ﮨﺮ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﭨﮭﻨﮉﺍ ﮐﺮﻭﺍﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﻣﮑﻤﻞ ﺭﺍﺯﺩﺍﺭﯼ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﻮ ﺑﻼ ﺟﺠﻬﮏ WhatsApp ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺑﻄﮧ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺭﺍﺯﺩﺍﺭﯼ ﮐﯽ ﮨﺮ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﮔﺮﺍﻧﭩﯽ ﮨﮯ
ﺻﺮﻑ ﭘﯿﺎﺳﯽ ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ
WhatsApp number
+92321536969
